قاری تو بہت ہوں گے لیکن فقہاء بہت کم ہوں گے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ
قرب قیامت ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ قاری تو بہت ہوں گے (پڑھنے والے) لیکن صحیح سوجھ بوجھ والے فقہاء علماء کم ہوں گے۔ دین کا علم اٹھا لیا جائے گا اور بہت زیادہ لوگوں میں ھر ج ہوگا ، صحابہ نے پوچھا ھر ج کیا ہے اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم؟ آپ نے فرمایا تمہارے درمیان مل و خون ریزی ۔ پھر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ لوگ قرآن پاک تو پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ پھر اس کے بعد ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ کافر اور منافق جو اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ ایمان والوں سے بحث و مباحثہ کریں گے اپنے باطل کو ثابت کرنے کے لیے بالکل وہی دلیل کا سہارا لیں گے، جو ایمان والے ان کے خلاف استعمال کرتے تھے۔

ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق